نئی دہلی،15؍جولائی (ایس او نیوز؍ایجنسی) پارلیمنٹ ہاؤس کے احاطہ کا استعمال دھرنا، احتجاج، ہڑتال، انشن یا مذہبی تقاریب کے لئے نہیں کئے جانے سے متعلق سرکلر کو لے کر کانگریس کے رکن پارلیمنٹ جے رام رمیش کے اعتراض کے بعد لوک سبھا سکریٹریٹ نے معاملہ میں وضاحت پیش کی ہے۔
مانسون اجلاس سے قبل راجیہ کے جنرل سکریٹری پی سی مودی کی طرف سے جاری بلیٹن میں کہا گیا ہے ’’ارکان پارلیمنٹ احاطہ کا استعمال دھرنا، احتجاج، ہڑتال، انشن یا مذہبی تقاریب کے لئے نہیں کر سکتے۔‘‘
وضاحت پیش کرتے ہوئے لوک سبھا سکریٹریٹ نے واضح طور پر کہا ہے کہ یہ ایک معمول کا عمل ہے اور اس طرح کا سرکلر ہر اجلاس سے قبل جاری کیا جاتا ہے۔ لوک سبھا سکریٹریٹ کے مطابق ایسی رہنما ہدایات گزشتہ سال 3 اگست 2021 کو بھی جاری کی گئی تھی اور کہا گیا تھا کہ پارلیمنٹ احاطہ میں دھرنا و مظاہرہ نہیں کیا جا سکتا ہے۔ نیز جے رام رمیش جب ڈاکٹر منموہن سنگھ کی قیادت والی کانگریس حکومت میں مرکزی وزیر تھے، اس وقت بھی اس طرح کی صلاح جاری کی گئی تھی۔
اس معاملہ پر ٹوئٹ کرتے ہوئے جے رام رمیش نے لکھا، ’’وشو گرو کا تازہ حملہ، دھرنا منع ہے۔ دھرنا اور احتجاج پر پابندی کا یہ سرکلر ایسے وقت میں جاری کیا گیا ہے جب ایک روز قبل غیر پارلیمانی الفاظ کی بھی ایک فہرست جاری کرتے ہوئے ان پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ حزب اختلاف نے اس پر بھی اعتراض ظاہر کیا ہے۔